Saturday, February 1, 2020

درود شریف کی موجودہ عہد میں ضرورت واہمیت

۔*درودشریف کی موجودہ عہدمیں ضرورت واہمیت*


*تحریر:غلام غوث جامعی بارہ بنکوی*
*خطیب وامام: غوثیہ جامع مسجد, مدھو وہار, نئی دہلی*
*رابطہ نمبر 7289849371*
ggbarabanki@gmail.com


درود و سلام کا تذکرہ قرآن وحدیث اور فضائل ومناقب پر مشتمل تمام کتابوں میں موجود ہے، یہ ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف دل و دماغ کو تازگی ملتی ہے بلکہ رب کائنات کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نہایت پسندیدہ عمل ہے

 اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو درود و سلام کا حکم مخصوص انداز میں دیا، پہلے تو خود رب العزت نے اورفرشتوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر صرف اہل ایمان کو بکثرت درود شریف پڑھنے کا حکم فرمایا: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
 (قرآن مجید پارہ 22)

بے شک اللہ تعالی اور  ا س کےتمام فرشتے نبی مکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب خوب سلام بھیجا کرو!


اس آیۂ کریمہ سے جہاں یہ واضح ہوا کہ یہ کام اتنا مبارک ہے کہ خود خدائے تعالی انجام دیتا ہے، وہیں اس بات کی بھی وضاحت ہو گئی کہ یہ وہ مقدس اورمسعود عمل ہے جو ہمیشہ ہوتا رہے گا کیوں کہ نہ خدا کی ذات کے لیے فنا ہے اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے جانے کی کوئی انتہا۔ بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا نہایت مقبول اورمحبوب ترین عمل ہے۔


قرآن پاک کے اس خاص انداز بیان سے درود و سلام پیش کرنے کی جتنی ترغیب ملتی ہے، احادیث مبارکہ میں مذکور خصوصیات کے مطالعہ سے بھی اتنی ہی دل چسپی پیدا ہوتی ہے،یہاں سر دست چند احادیث پیش ہیں، مطالعہ کریں اور ایمان کو تازگی دیں :


(1) عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من صلی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ نے عشر صلوات وحطت عنہ عشرخطیات ورفعت لہ عشر درجات ۔

(سنن نسائی،  ج 1، ص:191)

 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پرایک بار درود بھیجے گا،  خدائے تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا ، اس کے دس گناہوں کو معاف فرمائے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا۔


(2)  عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثر ھم علی صلاۃ ۔

(ترمذی, ج 1,ص:110)

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا، جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درودبھیجا ہوگا ۔

(3)عن عمر بن الخطاب قال ان الدعاء موقوف بین السماءوالارض لا یصعد منہ شیئ حتی تصلی علی نبیک ۔

(ترمذی شریف)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دعا آسمان  اورزمین کے درمیان معلق رہتی ہے، اس میں سے کچھ اوپر نہیں چڑھتا، جب تک  تو اپنے نبی پاک پر درود نہ بھیجے ۔


ان تمام حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ درود پاک کا ورد کرنے والےپر اللہ تعالی کی خاص عنایتیں نازل ہوتی ہیں یعنی اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، ثواب بڑھا دیا جاتا ہے،درجات میں بلندی عطا کردی جاتی ہےاورروز قیامت رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت نصیب ہوگی جبکہ درود نہ پڑھنے کا نقصان یہ ہے کہ بندے  کی دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہےگویا اجابت دعا کی ضمانت درود شریف ہے۔


علاوہ ازیں درود شریف ایسا عمل ہے کہ اس کے توسط سے امتی اور نبی کےرشتے کو مضبوطی ملتی ہے یعنی جو جس قدر مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ومحبت کرے گا، اسی قدر ان کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرے گا اور جو جس قدر خراج سلام پیش کرے گا، اسی قدر آں ﷺ کی قربت پائے گا۔


  عہد حاضر میں اس ناحیہ سے بکثرت درود پڑھے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ عملاً ذات رسالت سے ہمارا کم تعلق زور ہو چکا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ ہنوز ہم نے یہ جانا سمجھا ہی نہیں، کہ امت اور صاحب نبوت و رسالت  کےدرمیان رشتہ کس قدر مضبوط ہونا چاہیے۔


 درود پاک کی تمام خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس سے بلائیں دور ہوتی ہیں۔ فی الوقت ہم اس دنیا میں جس کرب میں مبتلا ہیں اور جن پریشانیوں سے گزررہے ہیں،ان سے نجات کا مضبوط راستہ یہ ہے کہ کثرت سے درودو سلام کا ورد کریں اور درور پاک کے توسل سے بارگاہ خداوندی میں دفع بلایا کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔


 درود شریف پڑھنے کی بہت ساری برکتوں میں سے چند اہم ترین برکتیں اور سعادتیں یہ بھی ہیں: اس سے اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول ﷺ سے قربت حاصل ہوتی ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے،  رزق میں کشادگی ہوتی ہے،  اولاد میں اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یہ دعاکی مقبولیت کاسہارا بنتا ہے، اس کی بدولت قیامت کی ہول ناکیوں سے نجات حاصل ہوتی ہے  اور حسن خاتمہ کا یقین بڑھ جاتا ہے۔


ان کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اگر نیک لوگ درود پڑھتے ہیں تو ان کے درجات میں بلندیاں ہوتی ہیں اورفاسق وفاجر درود پاک کا ورد کرنے لگ جاتے ہیں تو ان کے گناہوں مٹا کر انھیں توفیق خیر مل جاتی ہے بلکہ قرآن پاک کے مطابق  ان کے نامۂ اعمال میں سیئات کی جگہ حسنات یعنی نیکیاں درج کردی  جاتی ہیں۔


اگر امت اس بھولے ہوئے سبق کو اپنی زندگی کا  حصہ بنا لے تو ممکن حد تک بلاؤں سمیت ہر طرح کی تکلیفوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے،یہ محض ایک دعوی نہیں بلکہ  مجرب نسخہ ہے، اس کی دلیل کے طور پر بہت ساری مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں

جب درود وسلام کا کثرت سے ورد کیا گیا  تو پڑھنے  والوں کی پریشانیاں کافور ہوئیں۔


موجودہ وقت میں نہ صرف ہمارا ملک بھارت کورونا وائرس سے متاثر ہے بلکہ دنیا کے تقریباً ممالک اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں، وائرس سے متاثر افراد کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے،اس کی چپیٹ میں آکر فوت ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو چکی ہے اوراس نہ نظر آنے والی مخلوق نے تمام انسانوں کی نیند اچاٹ کر دی ہے اور زندگی کا چین چھین لیا ہے، حکومت سے لے کر ذاتی سطح تک ہر شخص پریشان ہے، پورے ملک کا پہیہ جام ہے، کاروبار معطل ہے، انسان انسان سے بھاگ رہا ہے، قیامت جیسی ہیبت ہے اور ایک ہو کا عالم ہے۔  اورچوں کہ  اب تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے، اس لیے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وبا کا انجام کیا ہوگا اور بزعم خویش ترقی یافتہ دنیا کا مستقبل کس قدر تنزلیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

 ایسے عالم میں لازمی طور پر عقیدت کی گہرائی کے ساتھ اگر ہم درودسلام کے ورد کی عادت بنالیں تو یہ عمل مفید اور دافع بلا ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ ایک طرف جہاں دنیا اس وبا کو لا علاج قرار دے رہی ہے، وہیں ایک طبیب صادق ﷺ نے مدتوں پہلے ہر بیماری کو قابل علاج بتایا تھا اور روحانی بات یہ ہے کہ جیسے ان کی بتائی ہوئی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے راز چھپے ہوئے ہیں، ویسے ہی ان سے رشتہ عقیدت رکھنے میں دنیا کی ہر کام یابی مضمر ہے۔

 درود شریف در اصل اسی رشتہ عقیدت کو مہمیز کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس وقت کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں جہاں بالعموم اپنے تمام  گناہوں سےتوبہ کرنی چاہیے اور استغفار کی عادت بنانی چاہیے، وہیں بالخصوص درود شریف کو اپنا وظیفہ حیات بنانا چاہیے۔ کیوں کہ ہمارا اعتقاد ہے جہاں ترقیوں کے وسائل اور احتیاطی تدبیروں کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، پیغمبر اسلام ﷺ کی روحانی طاقت سہارا دیتی ہے۔

اس لیے ہم پوری دنیا ئے محبت سے اپیل کرتے ہیں کہ ان دنوں ہم سب لوگ جتنا زیادہ ممکن ہو، ہادی عالم،رحمت دوجہاں،سرور کائنات، سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ترین بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرنے میں مصروف ہوجائیں اور سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اور نقل و حرکت کرتے ہر وقت درود شریف ورد زبان رکھیں اور یہی اپنے اہل خانہ کو تلقین کریں۔

کورونا کی وجہ سے ہوئے لاک ڈاؤن کے دورانیہ کا اس سے بہتر استعمال نہیں ہو سکتا اور اس وقت جب تقریبا دنیا کی بڑی آبادی اپنی اپنی جگہ تھمی اور جمی سی ہے، کاروباری کمپنیاں معطل ہیں اور لگ بھگ ہر آدمی پہلی بار قدرے غنیمت فرصت میں ہے، اپنی گم شدہ دولت عشق کی بخوبی باز یابی کی جا سکتی ہے اور بعد از خدا دنیا کی بلا شک سب سے عظیم ترین ہستی سے رشتہ غلامی کو بخوبی استوار کیا جا سکتا ہے۔


رفیق مکرم حضرت مولانا مفتی خالد ایوب صاحب مصباحی کی قائم کردہ متحرک تنظیم تحریک علمائے ہنداور ان کے رفقائے کار نےعالمی پیمانے پر درود وسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ رسالت میں بھیجنے کااہتمام کیا ہے ، تحریک کی یہ فکر بہت مبارک ہے اور قابل تحسین ہے، ہم مصیبت کے ماروں کو اس طرح کے اقدامات کی صرف زبانی نہیں بلکہ عملی تائید کرنی چاہیے، میں ذاتی طور پر پورے عزم کے ساتھ اس اقدام کو سراہتا ہوں کیوں کہ اس مصبیت کی گھڑی میں اس سے بڑی نیکی کی دعوت نہیں ہو سکتی اور یہ دعوت کوئی دے ، دے ، نہ دے، یہ ہماری اپنی ضرورت ہے اور یہ کام تو بہر صورت ، بہر مصروفیت ہونا چاہیے تھا، اگر اس وقت فرصت میں بھی نہ کیا جا سکے تو محروم القسمتی۔

 
امید ہے تمام با شعور احباب اس مشن کا حصہ بنیں گے، اپنے گھروں میں درود کی محفلیں سجائیں گے اور   جن کا کلمہ پڑھتے ہیں، ان سےاپنا رشتہ غلامی مضبوط کرنے میں کام یاب ہوں گے۔ اللہ تعالی توفیق اور پھر قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔